Brailvi Books

سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟
63 - 86
نے ارشاد فرمایا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے ، عاجزی کرنے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کثرت سے ذکر کرنے والے قربِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں ہوں گے ۔'' اس نے پھرعرض کی: ''یارسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!کیا یہ لوگ جنت میں سب سے پہلے داخل ہوں گے؟ ارشاد فرمایا:'' نہیں۔'' اس نے عرض کی :''تو پھرجنت میں سب سے پہلے کون داخل ہوں گے ؟''ارشادفرمایا:''فقراء (یعنی غریب لوگ )جنت کی طرف دوسرے لوگوں سے پہلے بڑھ جائیں گے ،جنت کے فرشتے ان کی طرف نکل آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ'' حساب کی طرف لوٹ جاؤ(پھر جنت میں آنا)''وہ کہیں گے:'' ہم کس چیز کا حساب دیں؟اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !ہمارے پاس مال نہ تھا کہ اسے جمع کرکے رکھتے یا اس میں سے خرچ کرتے اورنہ ہم حاکم تھے کہ انصاف کرتے یا ظلم کرتے بلکہ ہمارے پاس اللہ عَزَّوَجَلَّ کاحکم آیاتو ہم نے اس کی عبادت کی یہاں تک کہ ہمیں موت نے آلیا ۔''
 (حلیۃ الاولیاء ، الحدیث ۱۱۶۸۴،ج۸، ص۱۵۲)
نیکی کی دعوت دینے والے خوش نصیب:
    حضرت سیِّدُنا کعب الاحباررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تورات شریف میں حضرت سیِّدُنا موسیٰ علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف وحی فرمائی : ''اے موسیٰ (علیہ السلام)! جس نے نیکی کاحکم دیا، برائی سے منع کیا ا ور لوگوں کو میری اطاعت کی طرف بلایا تو اسے دنیا اور قبر میں میرا قرب اور قیامت کے دن میرے عرش کا سایہ نصیب ہوگا ۔''(المرجع السابق،الحدیث ۷۷۱۶، ج۶، ص ۳۶)
Flag Counter