| سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟ |
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں)''پھر میں نے اس کا مزید تتبع اور جستجو کی تو عرش کاسایہ دلانے والے دیگر خصائل بھی تلاش کرلئے ۔چنانچہ،
محبتِ مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورسایہ عرش:
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا مولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہےکہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ بشارت نشان ہے: '' بروز قیامت سب سے پہلے عرش کا سایہ پانے والوں کے لئے خوشخبر ی ہے۔ ''عرض کی گئی:'' یا رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!وہ کون لوگ ہیں ؟''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ!جولوگ تمہاری پیروی کرتے اورتم سے محبت کرتے ہیں۔ ''
(الفردوس بما ثورالخطاب،الحدیث۳۵۷۶،ج۲،ص۳۴۸بدون قیل۔۔۔۔۔۔الخ)
سورۃ الانعام اورچالیس ہزارفرشتے:
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ارشاد فرماتے ہیں:'' جس نے صبح کی نماز میں ''سورہ انعام ''کی ابتدائی تین آیات ''یَعْلَمُ مَا تَکْسِبُوْنَ'' تک تلاوت کیں،چالیس ہزار فرشتے اس کی طرف نازل ہوں گے ،جن کے اعمال کی مثل اس کے نامہ اعمال میں اجرلکھاجائے گا اور سات آسمانوں کے اوپر سے ایک فرشتہ نیچے آئے گا جس کے پاس لوہے کا گُرز ہوگاپس اگر شیطان اس کے دل میں کوئی وسوسہ ڈالناچاہے گا تو وہ فرشتہ اس شیطان کوایک ضرب لگائے گاجس سے اس شخص