| سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟ |
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں)اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی بیان کردہ خصلت کے علاوہ مذکورہ احادیث کریمہ سے بیس خصائل حاصل ہوئے تویہ اکیس ہو گئے۔اب ان اکیس میں گزشتہ اٹھائیس کو ملایاتو کل انچاس خصائل ہوگئے ۔مَیں نے ان کوایک نظم کی صورت میں جمع کیا ہے:
وَزِدْمَعَ ضِعْفِ مَنْ یُضِیْفُ وَعِزْبَۃٌ لِاِیْتَامِھَا ثُّمَ الْقَرِیْبُ بِوَصْلِہٖ وَعَلِمَ بِاَنَّ اللہَ مَعَہ، وَحُبُّہ، لِاِجْلَالِہٖ وَالْجُوْعُ مَعَ اَھْلِ حَبْلِہٖ وَزُھْدٌ وَ تَفْرِیْجٌ وَ غَضٌّ وَ قُوَّۃٌ صَلَاۃٌ عَلَی الْھَادِیْ وَاِحْیَاءُ فِعْلِہٖ وَتَرْکُ رِبَا سُحْتٍ زِنَا وَ رِعَایَۃٌ لِشَمْسٍ وَحُکْمٌ لِلْاُنَاسِ کَمِثْلِہٖ وَصَوْمٌ وَتَشْیِیْعٌ لِمَیْتٍ عِیَادَۃٌ فَسَبَّعَ بِھَاالسَّبْعَاتُ یَازَیْنَ اَھْلِہٖ
ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔سایہ عرش پانے والے مزید افرادیہ ہیں ۱؎ وہ جومہمان نوازی کرے، ۲؎ اپنے یتیم بچوں کی پرورش کرنے والی پھر ۳؎صلہ رحمی کرنے والاقربِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں ہوگا۔ (۲)۔۔۔۔۔۔ اور۴؎ وہ جو یقین رکھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ میرے ساتھ ہے،۵؎ بندوں سے رضائے الہٰی عَزَّوَجَلّ َکے لئے محبت کرنے والااور ۶؎ باوجودقدرت کے بھوک برداشت کرنے والا۔ (۳)۔۔۔۔۔۔۷؎ دنیاسے بے رغبتی اختیارکرنے،۸؎مسلمانوں سے تکلیف دور کرنے، ۹؎آنکھوں کی حفاظت کرنے،۱۰؎جوانی کوعبادت میں گزارنے، ۱۱؎حضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درود پاک کی کثرت کرنے اور۱۲؎ سنتوں کو زندہ کرنے والے ۔ (۴)۔۔۔۔۔۔ ۱۳؎حرام کاموں،۱۴؎ سوداور۱۵؎ زناسے بچنے،۱۶؎سورج کی رعایت(یعنی وقت میں نمازادا) کرنے اور۱۷؎اپنے ذاتی فیصلے کی طرح لوگوں کے فیصلے کرنے والے۔ (۵)۔۔۔۔۔۔ ۱۸؎روزے رکھنے ،۱۹؎جنازے کے ساتھ جانے ،۲۰؎ مریض کی عیادت کرنے والے لوگ،پس ۲۱؎ اے اہلِ میت کوتسلی دینے والے ! یہ سارے مل کراکیس ہوگئے ۔