| سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟ |
(۱)۔۔۔۔۔۔حضرت سیِّدُنامغیث بن سمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ارشادفرماتے ہیں:''بروزِقیامت سورج لوگوں کے سروں سے چند گزکے فاصلے پر ہوگا اور جہنم کے دروازے کھول دئیے جائیں گے،تواس کی لُواورسخت گرمی ان کی طرف چلے گی اور جہنم کی تپش ان کی طرف بڑھے گی حتی کہ زمین پران کاپسینابہنے لگے گا جوسڑی ہوئی لاش سے زیادہ بدبودار ہوگا مگراس وقت روزہ دار عرش کے سائے میں ہوں گے۔''
(الدر المنثور ، سورۃ البقرۃ ، تحت الایۃ ،۱۸۴، ج۱،ص۴۴۲)
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں)''یہ ایسی بات ہے جواپنی رائے سے نہیں کہی جاسکتی۔''(یعنی یہ مرفوع حدیث پاک کے حکم میں ہے) (۲)۔۔۔۔۔۔حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رحمتِ عالَم، نورِمجسَّم،شہنشاہ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمان عالیشان ہے : ''روزے داروں کے منہ سے مشک کی خوشبوآئے گی،بروزِقیامت ان کے لئے عرش کے سائے میں دسترخوان لگایاجائے گاتو وہ اس سے کھائیں گے جبکہ دوسرے لوگ سختی میں ہوں گے۔''
(موسو عۃ لامام ابن ابی دنیا ،کتاب الجوع ، الحدیث ۱۳۹،ج۴، ص ۱۰۲)
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں)''اس حدیث پاک میں سائے کی طرف اشارے یا تصریح دونوں کا احتمال ہے۔'' (۳)۔۔۔۔۔۔حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے: ''بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس ایک ایسا دستر خوان ہے جس پرایسی نعمتیں ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ