| سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟ |
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں)''اس سے معلوم ہوا کہ ان تینوں میں سے ہرایک خصلت مستقل طورپر سایہ عرش کا مستحق بنانے والی ہے۔''
حضرت عبدالمجیدبن عبدالعزیز اپنے والدرحمہمااللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں: ''(ہمارے زمانے میں)کہاجاتا تھاکہ تین اشخاص قیامت کے دن عرش کے سائے میں ہوں گے (۱)مریض کی عیادت کرنے والا(۲)جنازہ کے ساتھ جانے والااور(۳)جس کابچہ فوت ہوجائے اس سے تعزیت کرنے والا۔''(الدرالمنثور،تفسیرسورۃالانعام،ج۳،ص۲۴۵)
امام ابن ابی الدنیارحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اسی سندکے ساتھ''کتاب العزاء'' میں اس حدیث پاک کی تخریج فرمائی ہے ۔اوراس میں اس بات کی صراحت ہے کہ ان خصائل میں سے ہر خصلت سایہ عرش کے لئے مستقل استحقاق کی حامل ہے۔اور مریض کی عیادت کے بارے میں توایک مرفوع شاہد موجودہے ،چنانچہ،
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمربن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے :'' قیامت کے دن پکارنے والاپکارے گا،'' کہاں ہیں وہ لوگ جو دنیا میں مریضوں کی عیادت کرتے تھے۔''پس (جب وہ حاضرہوں گے تو)انہیں نور کے منبروں پر بٹھایا جائے گا جہاں یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے شرفِ کلام حاصل کریں گے جبکہ لوگ حساب دے رہے ہوں گے۔''(کنز العمال،کتاب الزکاۃ،الحدیث۱۶۱۸۸،ج۶،ص۱۶۶)
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں)''اس حدیث پاک میں سایہ عرش پانے کی طرف اشارہ ملتاہے۔''