| سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟ |
نہ ہوگا(۱)امانت دار تاجر(۲) عادل حکمران ا ور(۳) دن میں سورج کی رعایت کرنے والا۔'' (یعنی وقت میں نماز پڑھنے والا)
(کنز العمال،کتاب المواعظ۔۔۔۔۔۔الخ،ا لحدیث۴۳۲۵۲،ج۱۵،ص۶ ۳۴)
تیسری خصلت پرایک حد یث شریف
ماقبل حدیثِ مبارکہ میں تیسری خصلت کی تائیدیہ حدیث شریف کرتی ہے جو حضرت سیِّدُناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ بندے وہ ہیں جوسورج اور چاند کی رعایت کرتے ہیں ۔''
یہ الفاظ بھی مروی ہیں کہ''اورستاروں کی رعایت کرتے ہیں اور ذکرالہٰی عَزَّوَجَلَّ کرنے والوں کے لئے (عرش کا)سایہ ہے۔''(الزھدلابن المبارک،الجزء العاشر،استعنت باللہ،الحدیث۱۳۰۴،ص۴۶۰)
حضرت سیِّدُناابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ''بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک محبوب ترین بندے ،سورج اورچاندکی رعایت کرنے والے ہیں۔''
(کتاب الزھد للامام احمد بن حنبل،الحدیث۷۷۰،ص۱۶۶)
درودپاک کی کثرت:
حضرت سیِّدُنااَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ حقیقت بنیادہے: ''تین اشخاص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے نیچے ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا(۱)وہ شخص جس نے میرے کسی پریشان