| سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟ |
فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے :''اپنی اولاد کو تین باتیں سکھاؤ (۱) اپني نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی محبت(۲) اہل بیت رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کی محبت اور (۳)تلاوتِ قرآن کیونکہ قرآن پاک پڑھني والي لوگ، حضرات انبیاء و اصفیاء علیہم السلام کي ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کي سایہ رحمت میں ہوں گی جس دن اس کی علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔''
(الجامع الصغیر ، الحدیث ۳۱۱، ص ۲۵)
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتي ہیں)میں نے اس حدیث پاک کا ایک عمدہ ''شاہد''پایا ۔چنانچہ ،
بچپن سے بڑھاپے تک تلاوتِ قرآن کریم:
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،باعثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عرش نشان ہے:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ سات اشخا ص کواس دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گاجس دن اُس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا (۱)عادل حکمران (۲)وہ شخص جس سے کوئی جمال ومنصب والی عورت ملاقات کرے اورخودکو برائی کے لئے اس پرپیش کرے تووہ شخص یہ کہے کہ ''میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا ہوں جو تمام جہا نوں کا پالنے والا ہے۔'' (۳)وہ شخص جس نے چھوٹی عمر میں قرآن پاک سیکھا اور اپنے بڑھاپے تک اس کی تلاوت کرتا رہا (۴)وہ شخص جس نے اپنے سیدھے ہاتھ سے اس طرح صدقہ کیاکہ اس کو اپنے بائیں ہاتھ سے پوشیدہ رکھا(یعنی بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہوئی)(۵)وہ شخص جس کا دل مساجد سے محبت کے باعث انہی میں لگا ر ہے (۶) وہ شخص جو دوسرے شخص سے ملے اور کہے کہ