| سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟ |
فیصلہ کرتا ہے (۲)وہ شخص جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مال دیا تو وہ اس کواللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے حصول اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت میں خرچ کرے (۳) وہ شخص جس نے اپنی جوانی اور طاقت کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں فناکردیا(۴)وہ شخص جس کا دل مساجد کی محبت کی وجہ سے انہی میں لگا رہتا ہے (۵) وہ شخص جو کسی خوبصورت عورت سے ملا پس وہ عورت اُسے اپنے آپ پرقدرت دے تووہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف کے سبب اس کو چھوڑ دے (۶)وہ شخص جو جہاں بھی ہویہ یقین رکھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ میرے ساتھ ہے (۷)وہ لوگ جن کے دل صاف اورکمائی پاک ہے وہ میری رضا کے لئے آپس میں محبت کرتے ہیں ،مَیں ان کاچرچاکرتا ہوں اور وہ میرا ذکر کرتے ہیں اور(۸) وہ شخص جس کی آنکھیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف سے آنسوبہائیں ۔''
(الزھد لابن المبارک ،باب تو بۃ داؤد۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث ۴۷۱، ج۱،ص۱۶۱ )
آسمانوں میں شہرت رکھنے والے:
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے :''دنیا میں بھوکے رہنے والے لوگو ں کی ارواح کواللہ عَزَّوَجَلَّ قبض فرماتا ہے اور ان کاحال یہ ہوتاہے کہ اگر غائب ہوجائیں توانہیں تلاش نہیں کیا جاتا، اگر موجود ہوں تو پہچانے نہیں جاتے ،دنیا میں پوشیدہ ہوتے ہیں مگر آسمانوں میں ان کی شہرت ہوتی ہے ، جب جاہل وبے علم شخص انہیں دیکھتا ہے تو ان کوبیمار گمان کرتا ہے جبکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خوف دامن گیرہوتا ہے، قیامت کے دن یہ لوگ عرش کے سائے میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔''
(مسند فردوس الاخبار،الحدیث:۱۶۵۹،ج۱،ص۲۳۵)