| سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟ |
رحمۃاللہ السَّلام نے اُم المؤمنین حضرتسیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بیان کردہ حدیث پاک میں موجودایک خصلت کی طرف توجہ نہیں فرمائی (یعنی اشعارمیں ذکرنہ کیا) اوروہ یہ ہے کہ'' وہ جولوگوں کے حق میں اس طرح فیصلہ کرتے ہیں جیسا اپنے حق میں فیصلہ کرتے ہیں۔''عنقریب اس کاذکر بھی میرے اشعار میں آئے گا۔''
مُصنّف رحمۃاللہ علیہ پرظا ہر ہونے والے خصائل کابیان
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں)یہاں پران خصائل کوبیان کیاجائے گاجو مجھ پر ظاہر ہوئے ہیں ۔چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے :''تین اشخاص بروز قیامت عرش کے سائے میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا۔(۱)صلہ رحمی کرنے والاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے رزق میں اضافہ فرماتاہے اور اس کی عمر کو لمبا کرتا ہے (۲)وہ عورت جس کا شوہر فوت ہوگیا اوراس نے صرف یتیم بچے چھوڑے تو وہ عورت کہے کہ'' میں دوسرا نکاح نہیں کروں گی بس اپنے یتیم بچوں کی نگہبانی کروں گی یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوجائے یاپھراللہ عَزَّوَجَلَّ ان کو غنی کردے اور(۳)وہ بندہ جس نے کھانا تیار کیاپس اپنے مہمان کی ضیافت کی اوراس میں خوب اچھی طرح خرچ کیا پھر یتیم اور مسکین کو بلایا اور انھیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے کھلایا۔''(فردوس الاخبار ،باب الثاء ، الحدیث ۲۳۴۹،ج۱، ص ۳۲۲)