وَزِدْمَعَ ضِعْفِ سَبْعَتَیْنِ اِعَانَۃٌ لِاَخْرَقَ مَعْ اَخْذٍ لِحَقٍ وَبَذْلِہٖ
وَکُرْہُ وُضُوْءٍ ثُمَّ مَشْیٌ لِمَسْجِدٍ وَ تَحْسِیْنُ خُلْقٍ ثُمَّ مَطْعَمُ فَضْلِہٖ
وَکَافِلُ ذِیْ یُتَمٍ وَاُرْمِلَۃٍوَھَتْ وَتَاجُرُ صِدْقٍ فِی الْمَقَالِ وَفِعْلِہٖ
وَ حُزْنٌ وَ تَصْبِیْرٌ وَ نُصْحٌ وَرَأْفَۃٌ تَرْبَعُ بِھَاالسَّبْعَاتُ فِیْ فَیْضِ فَضْلِہٖ
ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔سایہ عرش پانے والے مزیدچودہ افرادیہ ہیں ۱؎ ناسمجھ کو حق دلا کر اس کی مدد کرنا اور ۲؎ سوالی کو عطاکرنا۔
(۲)۔۔۔۔۔۔۳؎دشواری میں وضو کرنا۴؎مسجد کی طرف چلنا ۵؎خوش اخلاقی سے پیش آنااور ۶؎بھوکے کو کھاناکھلانا۔
(۳)۔۔۔۔۔۔۷؎یتیم اور۸؎ محتاج کی کفالت کرنے والا۹؎ ا پنی جوانی کوعبادتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں فنا کرنے والااور۱۰؎ قول وفعل میں سچاتاجر۔
(۴)۔۔۔۔۔۔۱۱؎غمزدہ۱۲؎بچے کے فوت ہونے پرصبرکرنے والی۱۳؎ بادشاہ کونصیحت کرنے والااور ۱۴؎ لوگوں پرنرمی کرنے والا،پس (ماقبل سے مل کر)فضلِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ پانے والے یہ سات کے چار گنا ( یعنی اٹھائیس) ہوگئے ہیں ۔
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں)میں کہتا ہوں''حضرت شیخ الاسلام علیہ