| سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟ |
(الترغیب فی فضائل الاعمال وثواب ذلک لا بن شاھین ، باب فضل من تبع الجنازۃ مختصرا،الحدیث۴۰۸،ج۱،ص۴۶۲)
(۲)۔۔۔۔۔۔ایک روایت یوں ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق اور حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی:''اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ !جو عورت اپنے بچے کے فوت ہونے پر صبر کرے اس کی جزاء کیاہے ؟'اللہ عَزَّوَجَلّ نے ارشاد فرمایا:''میں اسے اپنے عرش کے سائے میں رکھوں گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔''
(عمل الیوم و اللیلۃ لابن السنیی ، باب تعزیۃ اولیاء المیت ، الحدیث ۵۸۷، ص ۱۷۹)
(۳)۔۔۔۔۔۔ایک روایت اس طرح ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی: ''اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ !جو عورت اپنے بچے کے فوت ہونے پر صبر کرے اس کے لئے کیا جزاء ہے ؟''اللہ عَزَّوَجَلّ نے ارشاد فرمایا:''میں اسے اپنے سایہ رحمت میں اس دن جگہ دوں گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔''
د سویں حد یثِ پاک مخلوق پررحم کی فضیلت :
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منبر پرخطبہ دیتے ہوئے فرمایاکہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمان