| سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟ |
یہ بات لکھ دی ہے کہ جس نے اپنے اخلاق کوستھراکیا مَیں اُسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دوں گا،اوراسے حظیرۃ القدس (یعنی جنت)سے سیراب کروں گا اور اپنے جوارِ رحمت کا قرب عطا فرماؤں گا۔''
(المعجم الاوسط ، الحدیث ۶۵۰۶، ج۵، ص ۳۷)
چھٹی حد یثِ پاک سب سے پہلے سایہ عرش پانے والے:
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضورنبی پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے استفسارفرمایا: ''کیا تم جانتے ہو قیامت کے دن سب سے پہلے کن لوگوں کو عرش کا سایہ نصیب ہو گا؟ ''صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کی:
'' اَللہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ
اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بہتر جانتے ہیں۔''ارشادفرمایا:''وہ لوگ جن کے سامنے حق پیش کیاجاتاہے تو اس کو قبول کرتے ہیں ،جب ان سے سوال کیاجاتاہے توعطا کرتے ہیں اورلوگوں کے حق میں فیصلے اس طرح کرتے ہیں جیسا اپنے حق میں فیصلہ کرتے ہیں ۔''
( المسند للامام احمد بن حنبل،مسند السیدۃ عائشۃ رضی اللہ عنہا ، الحدیث ۲۴۴۳۳، ج۹، ص ۳۳۶)
سا تویں حد یثِ پاک نمازِجنازہ پڑھاکرو:
حضرت سیِّدُنا ابوذررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمان عالیشان ہے :''نماز جنازہ پڑھا کرو یہ