Brailvi Books

سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟
41 - 86
(۵)۔۔۔۔۔۔حضرت سیِّدُناجَعْدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ خبرپہنچی ہے کہ حضرت سیِّدُنا داؤد علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے بارگاہِ الٰہی عزوجل عرض کی:''جو تیری رضا چاہتے ہوئے کسی یتیم یا بیوہ کوسہارادے اس کی کیا جزاء ہے؟''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا:''اس کی جزاء یہ ہے کہ میں اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دوں گا جس دن میرے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔''
(کتاب الزھد للامام احمد بن حنبل، زہدداؤدعلیہ السلام، الحدیث: ۳۶۳، ص ۱۰۵)
پا نچویں حد یثِ پاک

خوش اخلاق ،جوارِرحمت میں ہوگا:
  حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیب ، حبیب لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ اے میرے خلیل !حُسنِ اخلاق سے پیش آؤ خواہ کفار ہی کیوں نہ ہوں ۱؎، نیکوں میں داخل ہوجاؤگے اور بے شک میں نے
۱؎: کفارکے ساتھ حسنِ سلوک ، کفراورکفرپرمددواعانت کے علاوہ دیگرمعاملات میں ہوسکتا ہے مثلاًمشرک پڑوسی کے ساتھ حق پڑوس کی ادائیگی اورکافرباپ کی غیرکفریہ معاملات میں اطاعت وغیرہ، وگرنہ کفارسے موالات (یعنی میل جول )ناجائزوحرام ہے، چنانچہ،سیدی اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃالرحمن ارشادفرماتے ہیں:''قرآن عظیم نے بکثرت آیتوں میں تمام کفارسے موالات(یعنی میل جول،باہمی اتحاد،آپس کی دوستی)قطعاًحرام فرمائی،مجوس(آگ کے پجاری) ہوں خواہ یہودونصار یٰ (یہودی وعیسائی)ہوں، خواہ ہُنُود(ہندو)اورسب سے بدترمُرتدانِ عُنُود(دینِ حق سے بغاوت کرنے والے مرتدین )(فتاوی رضویہ، ج۱۵، ص۲۷۳)، ہاں! دنیوی معاملات مثلاًخریدوفروخت وغیرہ(اپنی شرائط کے ساتھ) جس سے دین پرضرر(نقصان)نہ ہو مرتدین کے علاوہ کسی سے ممنوع نہیں(فتاوی رضویہ،ج۲۴،ص۳۳۱مُلَخَّصًا )مزیدتفصیل کے لئے فتاوی رضویہ شریف کے مذکورہ مقامات کامطالعہ فرمائیے۔
Flag Counter