(۲)۔۔۔۔۔۔حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا داؤد علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے بارگاہِ ربُّ العزّت میں عرض کی :''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !جو تیری رضا کے لئے کسی یتیم یا بیوہ کوپناہ دے تواس کی جزاء کیاہے ؟''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا:''میں اُسے اپنے عرش کے سائے میں اس دن جگہ دوں گا جس دن اُس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔''
(حلیۃ الاولیاء،الحدیث۴۷۰۸،ج۴،ص۴۸)
(۳)۔۔۔۔۔۔حضرت سیِّدُنا کعب الاحباررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناموسیٰ علیہ السلام نے عرض کی :'' اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ جو کسی یتیم کوپناہ دے حتی کہ وہ یتیم مستغنی ہوجائے یا کسی محتاج بیوہ کی کفالت کرے اس کی جزاء کیا ہے ؟ '' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:''میں اُسے اپنی جنت میں ٹھہراؤں گا اوراپنے( عرش کے ) سائے میں اس دن جگہ دوں گاجس دن میرے(عرش کے)سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔''
(حلیۃ الاولیاء ، الحدیث ۷۷۱۷،ج۶، ص ۳۸)
(۴)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیِّدُناابوعمران الجونی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''حضرت سیِّدُنا داؤد علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی:''جو تیری رضا کے لئے کسی یتیم یا بیوہ کوسہارادے اس کی جزاء کیا ہے ؟''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا: ''اس کی جزاء یہ ہے کہ میں اسے اپنے عرش کے سائے میں اس دن جگہ دوں گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔''
(الزہدلابن المبارک، باب توبۃ داؤدوذکرالانبیاء علیہم السلام،الحدیث۴۷۷،ص۱۶۴)