| سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟ |
امام عبدالرزاق علیہ رحمۃاللہ الرزاق نے اپنی جامع میں روایت کی کہ اُمیہ بن صفوان کہتے ہیں کہ'' صفوان کی مٹی میں ایک بندھا ہوا صحیفہ پایاگیا جس میں یہ (لکھاہوا)تھا کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم خلیل اللہ علی نبیناوعلیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی:'' اے میرے پروردگارعَزَّوَجَلَّ!جو شخص تیری رضاکے لئے کسی (محتاج) بیوہ کودرست کرے اس کی جزاء کیا ہے ؟''اللہ ربُّ العزت نے ارشادفرمایا:ــ ''بیوہ کا درست کرناکیاہے ؟''آپ علیہ السلام نے عرض کی :''وہ شخص اُسے پناہ دے ۔'' تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا:''میں اسے اپنے سایہ رحمت میں جگہ دوں گا اور اسے اپنی جنت میں داخل کروں گا۔''
(المصنف للامام عبدالرزاق،الحدیث ۶۰۷۳،ج۳، ص ۴۹۶)
حد یثِ پاک کے پا نچ شواہد
حضرت شیخ الاسلام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے بارے میں ایک عمدہ شاہدہے جسے امام طبرانی نے ''الدعاء ''میں روایت کیاہے۔اور انہوں نے آنے والی دو شاہداحادیث کے علاوہ کوئی شاہد حدیث بیان نہیں کی لیکن مَیں(یعنی حضرت مصنف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ) کہتا ہوں کہ اس کے دیگر شواہد بھی موجودہیں ۔ چنانچہ، (۱)۔۔۔۔۔۔حضرت سیِّدُنا اَنَس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی ئکریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشادفرماتے ہیں کہ'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت موسیٰ علیہ االسلام سے ارشادفرمایا:''اگر تم چاہتے ہو کہ اُس دن میرے عرش کے سایہ میں رہو جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا توپھر یتیم کے ساتھ رحم دل باپ اور بیوہ کے