| سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟ |
کافرمانِ رحمت نشان ہے: ''جس نے کسی یتیم یا بیوہ ۱؎ کی کفالت کی اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے گا۔''
(المعجم الاوسط ، الحدیث ۹۲۹۲، ج۶، ص۴۲۹،بدون''یوم القیامۃ'')
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے ارشادفرمایا:'' حضرت داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بارگاہِ ربُّ العزت میں عرض کی:''اے میرے اللہ عَزَّوَجَلَّ !جو بندہ تیری رضا کے لئے کسی بیوہ یایتیم کی پرورش کرے تو اس کے لئے کیا جزا ہے ؟'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا:'' میں اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرماؤں گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔''
(المسند الفردو س ، الحدیث ۴۵۵۹، ج۲،ص۱۴۷بدون''ارملۃ'')
۱؎:خیال رہے کہ غیرمحرم بیوہ کی کفالت اوراُسے پناہ دینے میں اس بات کی احتیاط ضروری ہے کہ بے پردگی نہ ہوکیونکہ آج کل لوگ منہ بولے باپ ،بھائی اوربیٹے وغیرہ بن جاتے ہیں اورخوب بے پردگی ہوتی ہے اور یوں اپنانامہ اعمال گناہوں سے سیاہ کرتے رہتے ہیں،چنانچہ شیخ طریقت،امیراہلسنت حضرت علامہ مولینا محمد الیاس عطارقادری رَضوی دام ظلہ منہ بولے رشتوں کے بارے میں ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں کہ ''اِن (یعنی منہ بولے باپ، بھائی اور بیٹے وغیرہ)سے بھی پردہ ہے کہ کسی کو باپ، بھائی يامنہ بولا بيٹا بنالينے سے وہ حقيقی باپ، بھائی اور بيٹا نہيں بن جاتا ۔ان سے تونِکاح بھی دُرُست ہے۔ہمارے مُعاشَرے میں منہ بولے رشتّوں کا رَواج عام ہے کوئی مرد کسی کو'' ماں'' بنا ئے ہوئے ہے ، کوئی لڑکی کسی کو ''بھائی'' بنا بیٹھی ہے تو کسی خاتون نے کسی کو '' بیٹا'' بنا لیا ہے ، کوئی کسی جوان لڑکی کا مُنہ بولا چچا ہے تو کوئی مُنہ بولا باپ اور پھر بے پردگیوں ، بے تکلُّفیوں اور مخلوط دعوتوں کے گناہ و پاپ کا وہ سیلاب ہے کہ الْاَمان وَ الْحَفِیظ۔
صِنْفِ مُخالِف کے ساتھ منہ بولے رشتے قائم کرنے والوں اوروالیوں کو اللہ عزوجل سے ڈرتے رہنا چاہے۔ یقینا شیطان پہلے سے بول کر وار نہیں کرتا۔ حدیثِ پاک میں آتا ہے ،'' دنیا اور عورَتوں سے بچو کیونکہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فِتنہ عورَتوں کی وجہ سے اُٹھا۔'' (صحیح مسلم ص۱۴۶۵ حدیث۲۷۴۲ )