Brailvi Books

سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟
37 - 86
تاجر قیامت کے دن انبیاء علیہم السلام ،صدیقین اورشہداء کے ساتھ ہوگا ۔''
( جامع الترمذی ، ابواب البیوع ، باب ماجاء فی التجار....الخ،الحدیث۱۲۰۹، ص۱۷۷۲)
(۲)۔۔۔۔۔۔حضرت سیِّدُنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ'' سچاامانت دار مسلمان تاجر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہوگا۔''
( سنن ابن ماجہ،ابواب التجارات، باب الحث علی المکاسب ، الحدیث ۲۱۳۹، ص ۲۶۰۵)
تیسری حد یثِ پاک

ناسمجھ کے ساتھ تعاون کی فضیلت:
 حضرت سیِّدُناجابربن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کویہ فرماتے ہوئے سناہے: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اس شخص کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے گا جس نے تنگدست کو مہلت دی یاکسی ناسمجھ کے ساتھ تعاون کیا۔'
(المعجم الاوسط ،من اسمہ محمود ، الحدیث۷۹۲۰، ج۶، ص۴۰)
چوتھی حد یثِ پاک

بیوہ ویتیم کی کفالت کاثواب:
حضرت سیِّدُناجابربن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم
Flag Counter