( تفسیر طبری ، سورۃ النسآء تحت الایۃ (۲۹)یأیھا الذین امنوا لاتا کلوا اموالکم بینکم ۔۔۔۔۔۔الایۃ،الحدیث۹۱۴۵،ج۴، ص ۳۴)
(۲)۔۔۔۔۔۔حضرت سیِّدُنا قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشادفرمایا:''سچا امانتدار تاجرقیامت کے دن (سایہ عرش پانے والے)سات افراد کے ساتھ عرش کے سائے میں ہو گا۔''
(شعب الایمان ، باب فی مقاربۃ وموادۃ اھل الدین،الحدیث ۹۰۲۹،ج۶، ص۴۹۴)
''الترغیب و الترہیب ''میں اس حدیث کے شواہد موجود ہیں ۔چنانچہ ،
(۱)۔۔۔۔۔۔حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ'' سچاامانت دار
۱؎:شَوَاہِدیہ جمع ہے شَاہِدکی،اصطلاحِ اصولِ حدیث میں اگر دوحدیثیں ایک صحابی سے مروی ہوں تودوسری کوپہلی کا ''مُتَابِع''اور اگر دو حدیثیں دو صحابیوں سے مروی ہوں تو دوسری کوپہلی کا''شَاہِد'' کہتے ہیں ،نیز اگروہ دونوں حدیثیں ''لفظ ومعنٰی '' میں موافق ہوں تو دوسری کو''مِثْلُہٗ'' اوراگرصرف ''معنٰی ''میں موافق ہوں تودوسری کو ''نَحْوُہ، ''کہتے ہيں ۔''
(مقدمۃ المشکوٰۃالمصابیح للشیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ اللہ القوی،ص۵)