Brailvi Books

سرکار کا پیغام عطّار کے نام
38 - 49
(15) د عوتِ اسلامی پَر سرکا رصلی اللہ تعالیٰ عليہ واٰلہٖ وسلم کا کرم
    اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ 24،25مارچ1988 ؁ حیدرا ۤبا د(باب الاسلام سندھ) ميں دعوتِ اسلامی کا دو روزہ عظيم الشان سنّتوں بھراجتماع ہوا۔اجتماع کے اختتام پر حسبِ معمول اميراَہلسنّت دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العاليہ نے دعا سے قبل اپنے مخصوص و منفرد انداز پر'' تصوُّرِ مدينہ ''کرايا۔يہ نہايت ہی پُر کيف گھڑياں ہوتی ہيں۔اس وقت رَحمتِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ عليہ واٰلہٖ وسلم کی چھَما چَھم بارش ہوتی ہے اوربعض اوقات کئی خوش نصیب عُشَّاق کی نگاہوں کے پردے اُٹھا دئیے جاتے ہیں ۔کوئی مدينے جاپہنچتا ہے تو کوئی خوش نصيب تاجدارِ مدينہ صلی اللہ تعالیٰ عليہ واٰلہٖ وسلم کے دیدار سے مشرّف ہوجاتا ہے ۔چنانچہ اس سنّتوں بھرے اجتماع ميں موجود ايک نابينا حافظِ قرآن بھی دورانِ تصورِ مدينہ،شہرِ مدينہ جا پہنچے، حافظ صاحب کا بيان ہے کہ مجھے اچھی طرح يہ حدیثِ پاک معلوم ہے کہ ہمارے پيارے آقا صلی اللہ تعالیٰ عليہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمايا ہے ''جو جان بُوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنالے''اس حدیثِ مبارَکہ کو پيش نظر رکھتے ہوئے حلفيہ کہتا ہوں کہ دورانِ تصورِ مدينہ مجھ پر غنودگی طاری ہوئی اوراَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مجھے مدينہ شريف کی زيارت
Flag Counter