| سرکار کا پیغام عطّار کے نام |
ان ہی اسلامی بھائی کا کہنا ہے کہ چند سالوں بعد میری قسمت پھر جاگ اُٹھی، ايک رات جب سویا تو خواب ميں پيارے پيارے جان سے پيارے آقا صلی اللہ تعالیٰ عليہ واٰلہٖ وسلم تشریف لے آئے اور ارشادفرمايا،''الياس قادری کو ميرا سلام کہنا'' اور يہ بھی کہنا کہ حَسَن ابنِ علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہما )کے فضائل پر بيان کريں۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہواٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
(14) يمنی بُزُرگ کا مَد َنی اِنْکِشاف
ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لبِّ لُباب ہے:رَمَضانُ الْمُبارَک ۱۴۱۵ھ کا واقعہ ہے۔ہم چند اسلامی بھائی مدينہ منورہ زادھا اللہ شرفًا وتعظیمًاميں ايک جگہ کھڑے ہوئے تھے کہ ايک ''يمنی بُزُرگ ''نے قریب آکر ہميں سلام کيا اور نہايت ہی پُرتَپاک طریقے سے ملے۔وہ ہمارے سبز عمامے شريف کو ديکھ کر بہت خوش ہو رہے تھے۔ انہوں نے ٹوٹی پھوٹی انگلش ميں پوچھا کہ آپ لوگوں کے امير کہاں ہيں؟چونکہ