مبلغ دعوتِ اسلامی کا بیان تھا۔ بعدِ بیان شرکاء ِاجتماع تصورِ مرشد کیے منقبتِ عطّاؔر سن رہے تھے۔ شرکاء پر عجیب کیفیت طاری تھی۔ میں بھی آنکھیں بند کئے اپنے پیر و مرشد شیخ طریقت، اميراَہلسنّت دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العاليہ کے تصور میں گُم تھا کہ یکایک مجھ پر رِقّت طاری ہوگئی اور میں غم مرشد میں رونے لگا۔یہاں تک روتے روتے میری ہچکیاں بندھ گئیں۔اتنے میں میری قسمت کا ستارہ چمک اٹھا،کیا دیکھتا ہوں کہ پیکرِشرم و حیا، مکی مدنی مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نگاہیں نیچی کیے ،فیضان مدینہ (حیدرآباد) میں تشریف لے آئے اور ان کے ہمراہ غوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اميراَہلسنّت دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العاليہ بھی تھے۔ پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم مَدَنی تربیت گاہ کے قریب تشریف فرماہوگئے اور اپنا دستِ شفقت غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کندھے پر رکھ دیا۔ قبلہ اميراَہلسنّت دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العاليہ پر رقت طاری تھی آپ دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العاليہ نے روتے ہوئے غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گود میں سر رکھ دیا۔ غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑی شفقت و محبت کے ساتھ اميراَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العاليہ کی پیٹھ سہلانے لگے۔ سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم میری جانب متوجہ ہوئے اور اميراَہلسنّت دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العاليہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو کچھ فرمایا