Brailvi Books

صَرفِ بَہائى
23 - 53
حَیٌّ اورحَیِیَ بروزن فَعْلٌ اورفَعَلَ وفَعِلَ۔

    خیال رہے کہ اسم کی پھر دو قسمیں ہیں(۱): (۱)اسم جامد (۲)اسم مصدر۔

    اسم جامد وہ اسم جس سے کوئی دوسرااسم یا فعل مشتق نہ ہو۔اس کے فارسی ترجمہ کے آخر میں ''دن'' یا ــ''تن'' نہ آتاہو۔ جیسے رَجُلٌ وفَرَسٌ۔ اوراسم مصدر: وہ اسم جس سے کوئی چیز مشتق ہو(۲)۔اس کے فارسی ترجمہ کے آخرمیں ''دن''یا ''تن''آتاہو۔ جیسے اَلضَّرْبُ (زدن)(مارنا) اَلْقَتْلُ (کشتن)(قتل کرنا)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ

علت ہو تو وہ بھی لفیف مقرون ہے۔ جیسے وَیْلٌ، یَوْمٌ مگر یہ صورت قلیل الاستعمال ہے اوروہ بھی صرف اسم میں ہے لہذا اس کا اعتبار نہ کرتے ہوئے اسے تعریف میں شامل نہیں کرتے۔(فائدہ) معتل کی تین قسمیں ہیں: (۱)معتل بیک حرف، اس کی پھر تین قسمیں ہیں:مثال، اجوف، اورناقص۔(۲)معتل بدوحرف، اسے لفیف بھی کہتے ہیں، اس کی پھردوقسمیں ہیں:لفیف مفروق اور لفیف مقرون۔ ان سب کی تعریفات کتاب میں مذکور ہیں۔ (۳)معتل بسہ حرف، وہ کلمہ ہے جس کے حروف اصلیہ کے مقابلہ میں تین حروف علت ہوں۔ جیسے: وَوَّیْتُ، یَیَّیْتُ، اسے ''معتل الکل'' اور'' معتل مطلق ''بھی کہتے ہیں۔نہایت قلیل الاستعمال ہونے کی بناء پر اسے بھی شمارنہیں کرتے۔

1۔۔۔۔۔۔قولہ: (اسم کی پھردوقسمیں ہیں) اس سے پہلے اسم کی تقسیم باعتبار ذات تھی اوریہ تقسیم باعتبار صفت ہے۔اس اعتبار سے اگرچہ اسم کی تین قسمیں بنتی ہیں:(۱) مصدر (۲)جامداور(۳) مشتق، مگر چونکہ مشتق مصدر کی فرع ہے اورمصدر مشتق کی اصل، اور ذکرِاصل کے بعد ذکرِ فرع کی حاجت نہیں رہتی ؛لِاَنَّ ذِکْرَالْاَصْلِ یُغْنِیْ عَنْ ذِکْرِالْفَرْعِ(اصل کاذکر، ذکرفرع سے بے نیاز کردیتاہے )اس لیے مصنف علیہ الرحمہ نے مشتق کو تقسیم میں شامل نہیں کیا ۔ 

2۔۔۔۔۔۔قولہ: (جس سے کوئی چیز مشتق ہو)چیز سے مراد اسماء اور افعال ہیں،اگر کہیے : مصدر کی یہ تعریف دخول غیر سے مانع نہیں اس لیے کہ یہ لَبَنٌ پر بھی صادق آتی ہے؛ کیونکہ اس سے اَلْبَنَ مشتق ہوتا ہے، حالانکہ لبن اسم مصدر نہیں ۔تو ہم کہیں گے : یہاں اشتقاق سے مراد اشتقاق حقیقی
Flag Counter