| صَرفِ بَہائى |
غَزَااوررَمْیٌ، رَمٰی بروزن فَعْلٌ، فَعَلَ۔
(۷) لفیف(۱):
اور اس کی دو قسمیں ہیں :(۱) لفیف مفروق (۲) (۲)لفیف مقرون(۳)۔ لفیف مفروق وہ اسم یا فعل جس میں فاء اور لام کلمہ کے مقابلہ میں حرف علت واقع ہو۔ جیسے وَقْیٌ اوروَقٰی بروزن فَعْلٌ اورفَعَلَ۔اورلفیف مقرون وہ اسم یا فعل جس میں عین اور لام کلمہ کے(۴) مقابلہ میں حرف علت ہو ۔جیسے : طَیٌّ اور طَوٰی،ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ اور مہموز اور مضاعف میں بھی موجود ہے لہذا ان کو بھی ذواربعۃ کہنا چاہیے؟تو ہم کہیں گے: جمہور متأخرین کے نزدیک اگرچہ'' تعریف'' میں اطراد وانعکاس شرط ہے اور''خاصہ'' میں فقط اطرادشرط ہے، مگر'' وجہ تسمیہ'' میں نہ اطرادشرط ہے نہ انعکاس؛لہذا اگرکہاجائے :کہ ''شیشی کو'' قارورہ''اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں پانی قرار پکڑتا ہے'' تواس پریہ اعتراض کرنا جہالت ہے کہ ''گھڑے کو قارورہ کیوں نہیں کہتے یہ بھی تو پانی کی قرار گاہ ہے''،اسی طرح مانحن فیہ میں تامل۔ 1۔۔۔۔۔۔قولہ:( لفیف ) لفیف کا لٖغوی معنی ہے ''لپٹا ہوا'' نیز آدمیوں کی ایسی جماعت کو بھی لفیف کہتے ہیں جو مختلف جماعتوں سے مل کربنے، اورایسے طعام کو بھی لفیف کہتے ہیں جس میں مختلف قسم کے طعام جمع ہوں، چونکہ لفیف اصطلاحی میں بھی دوحروف علت لپٹے ہوئے ہوتے ہیں اس لیے اسے'' لفیف'' کہتے ہیں۔ 2۔۔۔۔۔۔قولہ: (لفیف مفروق) مفروق کا لغوی معنی ہے'' جدا کیا ہوا'' چونکہ مفروق اصطلاحی میں بھی دوحروف علت کو حرف اصلی صحیح کے ذریعہ جدا کیاہواہوتا ہے اس لیے اسے ''لفیف مفروق'' کہتے ہیں۔نیزاسے ''ملتوِی''بھی کہتے ہیں؛ کہ اس کا لغوی معنی ہے ''لپیٹنے والا'' اورچونکہ لفیف مفروق میں دوحروفِ علت ایک حرف صحیح کو لپیٹے ہوتے ہیں اس لیے اسے'' ملتوی'' بھی کہتے ہیں۔ 3۔۔۔۔۔۔قولہ: (لفیف مقرون) مقرون کا لغوی معنی ہے ''ایک دوسرے سے ملایا ہوا'' چونکہ مقرون اصطلاحی میں بھی دوحروف علت آپس میں ملائے ہوئے ہوتے ہیں ، درمیان میں حرف صحیح فاصل نہیں ہوتااس لیے اسے مقرون کہتے ہیں ۔ 4۔۔۔۔۔۔قولہـ: (عین اور لا م کلمہ کے ...الخ)خیال رہے کہ اگراسم کے فاء وعین کے مقابلہ میں حرف