Brailvi Books

صَرفِ بَہائى
21 - 53
 (۵) اجوف(۱) :

    وہ اسم یا فعل جس کے عین کلمہ کے مقابلہ میں حرف علت ہو۔ جیسے قَوْلٌ، قَالَ اوربَیْعٌ، بَاعَ بروزن فَعْلٌ اورفَعَلَ۔

(۶) ناقص(۲) : 

    وہ اسم یا فعل جس کے لام کلمہ کے مقابلہ میں حرف علت ہو۔ جیسے غَزْوٌ،
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ہوتاہے۔

    خیال رہے کہ مثال کی دو قسمیں ہیں:(۱) مثال واوی اور(۲)مثال یائی، مثال واوی وہ اسم یا فعل جس کا فاء کلمہ واو ہو۔ جیسے: وَعَدَ، مثال یائی وہ اسم یافعل جس کا فاء کلمہ یاء ہو ۔جیسے: یُسْرٌ۔ 

مثال اصطلاحی کو مثال اس لیے کہتے ہیں کہ اس کی ماضی کی گردان صحیح کی گردان کی مانند ہے یعنی جس طرح صحیح کی گردان میں تبدیلی نہیں اسی طرح اس میں بھی تبدیلی نہیں۔

1۔۔۔۔۔۔قولہ: ( اجوف) اجوف کا لغوی معنی ہے'' درمیان سے خالی''یا''ذ و بطن'' اور اصطلاحی تعریف کتاب میں مذکورہے، اجوف کو'' معتل العین'' اور'' ذو ثلاثہ'' بھی کہتے ہیں؛اس لیے کہ اس کی ماضی ثلاثی مجرد کے واحد متکلم کے صیغہ میں مع ضمیرکل تین حروف ہوتے ہیں۔ جیسے: قلت، اجوف کی بھی دو قسمیں ہیں: (۱) اجوف واوی اور(۲) اجوف یای، اجوف واوی وہ اسم یافعل جس کا عین کلمہ واو ہو۔ جیسے: نُوْرٌ بروزن فُعْلٌ۔ اجوف یائی وہ اسم یافعل جس کا عین کلمہ یاء ہو۔ جیسے : زَیْدٌ بروزن فَعْلٌ۔

2۔۔۔۔۔۔قولہ: (ناقص) ناقص کا لغوی معنی ہے'' ناتمام'' اصطلاحی تعریف کتاب میں مذکورہے۔ ناقص کو'' منقوص'' اور ''معتل اللام'' اور''ذواربعہ'' بھی کہتے ہیں۔ اور اصطلاح نحات میں منقوص وہ کلمہ ہے جس کے آخر میں یاء اور ماقبل مکسور ہو۔ جیسے: قاضی۔ناقص نقص سے ہے نقص کا معنی ہے ''کم ہونا'' یا'' کم کرنا'' (لازم اور متعدی) ''ناقص'' مصدر لازم سے اور'' منقوص'' مصدر متعدی سے مشتق ہے، ناقص یا منقوص اِس کلمہ کو اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا لام کلمہ اکثر گر جاتا ہے اور کلمہ میں لفظا نقص آجاتاہے۔ جیسے: یَدْعُوْ سے لَمْ یَدْعُ۔ اور ذواربعہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس سے واحد متکلم ماضی ثلاثی مجرد میں مع ضمیر کل چارحرف ہوتے ہیں۔اگر کہیے : یہ وجہ تو صحیح اور مثال
Flag Counter