| صَرفِ بَہائى |
مضاعف ثلاثی(۱) وہ اسم یا فعل جس کے عین اور لام کلمہ (۲) کے مقابلہ میں دو حروف ایک جنس کے ہوں۔ جیسے مَدٌّ ومَدَّ بروزن فَعَلٌ وفَعَلَ۔کہ اصل میں مَدَدٌ اور مَدَدَتھے۔
مضاعف رباعی (۳) وہ اسم یا فعل جس کے فاء اور لام اُولیٰ یا عین اور لام ثانیہ کے مقابلہ میں دو حروف ایک جنس کے ہوں۔ جیسے زَلْزَلَ وزِلْزَالا ً بروزن فَعْلَلَ وفِعْلَالاً۔
(۴) مثال(۴) :
وہ اسم یا فعل جس کے فاء کلمہ کے مقابلہ میں حرف علت آجائے۔ جیسے وَصْلٌ اوروَصَلَ بروزن فَعْلٌ اورفَعَلَ۔ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ بھی ایک حرف کو دوہراکیا ہواہوتاہے۔ 1۔۔۔۔۔۔قولہ: (مضاعف ثلاثی) اس میں عموما پہلے حرف کو دوسرے میں ادغام کرنے سے شد حاصل ہو جاتی ہے اور اس میں شدت یا سختی ہوتی ہے؛ اسی لیے مضاعف ثلاثی کو''اصم ''( بہرا اور سخت ) بھی کہتے ہیں۔ 2۔۔۔۔۔۔قولہ : (عین اورلام کلمہ..الخ) اگر فاء اور عین کلمہ ہم جنس ہوں جیسے: ددن( لہو ولعب) یا فاء اور لام کلمہ ہم جنس ہوں جیسے: سلس، یافاء وعین ولام تینوں کلمے ہم جنس ہوں جیسے ققق( آواز طفل) تو یہ بھی مضاعف ثلاثی ہے ،مگر چونکہ یہ قلیل الاستعمال ہیں لہذابفحوی القلیل کالمعدوم اکثر صرفیوں نے اس کا اعتبار نہیں کیا ۔ 3۔۔۔۔۔۔قولہ: (مضاعف رباعی) چونکہ اس میں ترکیب وترتیب کے لحاظ سے آخری دو حروف پہلے دو حروف کے مطابق ہوتے ہیں مثلا : زَلْزَلَ اس میں پہلے دو حرو ف'' زل'' ہیں دوسرے بھی '' زل''تو یہ دونوں زلزل ہوا،اسی لیے مضاعف رباعی کو'' مطلق ''بھی کہتے ہیں۔ 4۔۔۔۔۔۔قولہ: ( مثال) مثال کا لغوی معنی ہے''مانند'' اور اصطلاحی تعریف کتاب میں مذکورہے ، مثال کو ''معتل الفاء'' اور'' معتل الطرف ''بھی کہتے ہیں کہ اس قسم میں حرف علت طرف پر واقع