Brailvi Books

صَرفِ بَہائى
19 - 53
 (۲) مہموز(۱) :

     وہ اسم یا فعل جس کا کوئی ایک حرف اصلی ہمزہ ہو۔ اور اس کی تین قسمیں ہیں :

    (۱) مہموز الفاء، (۲)مہموز العین ، (۳)مہموز اللام۔

    مہموز الفاء وہ اسم یا فعل جس کے ــــــ''فاء ''کلمہ کے مقابلہ میں ہمزہ آئے ۔جیسے اَمْرٌ اوراَمَرَ بروزن فَعْلٌ اورفَعَلَ۔

     مہموز العین وہ اسم یا فعل جس کے'' عین'' کلمہ کے مقابلہ میں ہمزہ آئے۔ جیسے سَأْلٌ اورسَأَلَ بروزن فَعْلٌ اورفَعَلَ۔

    اورمہموز اللام وہ اسم یا فعل جس کے ''لام'' کلمہ کے مقابلہ میں ہمزہ آئے۔ جیسے قَرْءٌ اورقَرَءَ بروزن فَعْلٌ اورفَعَلَ۔

(۳) مضاعف(۲) :

    مضاعف وہ کلمہ جس میں دو حروف اصلیہ ہم جنس(ایک جیسے) ہوں ۔اور اس کی دو قسمیں ہیں: (۱)مضاعف ثلاثی (۲)مضاعف رباعی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ

قبل ضمہ ہو توواوہ مدہ،یاء ساکن ما قبل کسرہ ہو تو یاء مدہ، اور الف ما قبل فتحہ ہوتو الف مدہ ہے۔ ان تینوں حروف مدہ کی مثال'' نُوْحِیْہَا'' ہے۔خیال رہے الف ہمیشہ ساکن ہوتا ہے۔ حروف علت کے علاوہ تمام حروف تہجی کو ''حروف صحیحہ''کہتے ہیں۔

1۔۔۔۔۔۔ قولہ: ( مہموز) مہموز کا لغوی معنی ہے'' ہمز ہ دیاہوا'' اوراصطلاح میں اس سے مرادوہ کلمہ ہے جس کے حروف اصلیہ میں ہمزہ ہو۔ جیسے: اَمَرَ۔ اگر ہمزہ کسی حرف اصلی سے بدل کرآیا ہو۔ جیسے: قائل بروزن فاعل اوردعاء بروزن فعال میں تواعتبار حرف اصلی ہی کا ہوگا؛ لہذا قائل اوردعاء معتل کہلائیں گے نہ کہ مہموز،یہ بات ہر جگہ ملحوظ رہے۔ 

2۔۔۔۔۔۔قولہ: ( مضاعف) مضاعف بفتح عین، ضَاعَفَ، یُضَاعِفُ سے صیغہ اسم مفعول ہے، اس کا لغوی معنی ہے ''دوہرا کیا ہوا ''۔مضاعف اصطلاحی کو مضاعف اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں
Flag Counter