Brailvi Books

صَرفِ بَہائى
17 - 53
    ثلاثی مجرد وہ کلمہ جس میں تین حروف اصلیہ کے علاوہ کوئی حرف زائد نہ ہو۔ جیسے ضَرَبَ بروزن فَعَلَ۔اورثلاثی مزید فیہ وہ کلمہ جس میں تین حروف اصلیہ کے علاوہ کوئی حرف زائد بھی ہو۔ جیسے اَکْرَمَ بروزن اَفْعَلَ۔

    اسی طرح رباعی کی بھی دو قسمیں ہیں: (۱)رباعی مجرد (۲)رباعی مزید فیہ۔ 

    رباعی مجرد وہ کلمہ جس میں چار حروف اصلیہ کے علاوہ کوئی حرف زائد نہ ہو۔ جیسے دَحْرَجَ بروزن فَعْلَلَ۔اوررباعی مزید فیہ وہ کلمہ جس میں چار حروف اصلیہ کے علاوہ کوئی حرف زائد بھی ہو۔ جیسے تَدَحْرَجَ بروزن تَفَعْلَلَ۔

    اورخماسی کی بھی دو قسمیں ہیں :(۱)خماسی مجرد (۲)خماسی مزید فیہ۔

    خماسی مجرد وہ کلمہ جس میں پانچ حروف اصلیہ کے علاوہ کوئی حرف زائد نہ ہو۔ جیسے جَحْمَرِشٌ (بوڑھی عورت)بروزن فَعْلَلِلٌ۔

    اورخماسی مزید فیہ وہ کلمہ جس میں پانچ حروف اصلیہ کے علاوہ کوئی حرف زائد بھی ہو۔ جیسے خَنْدَرِیْسٌ ( پرانی شراب، پرانی گندم وغیرہ) بروزن فَعْلَلِیْلٌ۔

    اے عزیز طالبعلم! اسم اور فعل کی جملہ قسمیں سات اقسام سے باہر نہیں(۱)ہیں اور سات اقسام درج ذیل ہیں:
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ

بروزن فِعْلَالٌ اورخَنْدَرِیْسٌ بروزن فَعْلَلِیْلٌ۔(فائدہ) فعل اور اسم متمکن میں کم از کم حروف اصلیہ تین ہوتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ فعل میں چار اور اسم میں پانچ ہوتے ہیں،اوربعض حروف کے حذف ہوجانے کے بعدفعل میں ایک دوحروف رہ جاتے ہیں ۔جیسے: ''ق'' اور''قل''، اور حروف کی زیادتی کے بعد فعل میں زیادہ سے زیادہ چھ حروف ہوں گے اوراسم میں سات۔جیسے: ''استغفر'' اور''استغفار''۔

1۔۔۔۔۔۔قولہ: (سات اقسام سے باہر نہیں)ان سات اقسام سے مراد اسم متمکن اور فعل کی وہ سات اقسام ہیں جوحروف صحیحہ اور حروف علت کے اعتبارسے بنتی ہیں ،اوریہ کتاب میں
Flag Counter