Brailvi Books

صلوۃ وسلام کی عاشقہ
27 - 33
خلاصہ ہے کہ میرے ايک کزن جنون کی حدتک فیشن کے دلدادہ تھے، دعوت اسلامی کے کسی مبلغ کی انفرادی کوشش نے ان کی سوچ ہی بدل کر رکھ دی۔ پہلے ننگے سر گھومتے تھے، اب ہر وقت سر پہ سبز سبز عمامہ شریف کا تاج سجا ہوتا، داڑھی منڈانا چھوڑ کر اب چہرے پر سنت کے مطابق داڑھی سجالی،اغيار کے فیشن کو چھوڑ کر سنت کے مطابق سفید لباس زيبِ تن کر لیا۔ برے لوگوں کی صحبت سے کنارہ کش ہو کر دعوت اسلامی کا مدنی ماحول اپنا ليا۔اب حالت يہ تھی کہ ان کی زبان پر دُرُود پاک جاری رہتا ْ۔ان کے چہرے پہ چمکتا عبادت کانور اور سنتوں کے سانچے ميں ڈھلا سراپادیکھ کر لوگوں کے دلوں ميں دين کی محبت اجاگر ہو جاتی۔ انہيں دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوئے کم و بیش اڑھائی سال ہوئے ہوں گے کہ ایک دن بائیک پر ایک اسلامی بھائی کے ساتھ حضور داتا گنج بخش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مزار شریف پر حاضری دینے کے لئے گئے۔ وہاں مسجد ميں نماز ادا کرنے کے بعد واپس گھر کی طرف آرہے تھے کہ موٹر سائیکل سلپ ہو گئی ۔ ان کے سر پر بہت گہری چوٹ آئی جس سے خون کا فوارہ ابل پڑا ۔ کچھ لوگوں نے