| صلوۃ وسلام کی عاشقہ |
بیان کا خلاصہ ہے کہ میری خالہ صُغراں بی بی عطّاریہ بے اولاد تھیں،چنانچہ مجھ سے بہت پیار کرتی تھیں۔وہ کم و بیش2سال بیماررہیں۔ انہیں اپنے پیر و مرشد امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُُ الْعَالیہ سے بڑی عقیدت تھی۔وہ اس تکلیف میں اپنے مرشد کو یاد کرتیں اور ان کی بارگاہ میں استغاثہ پیش کرتی رہتیں۔ 16شوال المکرم ۱۴۲۷ھ06نومبر 2006 برو ز پیر شریف ان کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی۔ مگر حیرت انگیز طور پر شکوہ یا شکایت کے بجائے انہوں نے بآوازِ بلند صلوٰۃ و سلام
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْل اللہ وَعلٰی اٰلک واَصْحَابِکَ یا حَبِیْبَ اﷲ
پڑھنا شروع کردیا۔ پھر آنکھیں بند کرکے لمبی لمبی سانسیں لینے لگیں۔ بہن نے کَلِمَہ طَیِّبہ پڑھا تو خالہ نے آنکھیں کھول دیں اور بلند آواز سے کلمہ طَیِّبہ
لآاِلٰہ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ
پڑھااور آنکھیں بند کرلیں۔ بہن نے سورہ یٰسین شریف کی تلاوت شروع کردی۔ جیسے ہی یٰسین شریف کی تلاوت ختم ہوئی توخالہ نے ہچکی لی اور ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہوصَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد