ایک اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے کہ میری بہن رُخسانہ عطاریہ (عمر17سال) امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالیہ کی مریدنی تو کیا ہوئیں جینے کا انداز ہی بدل گیا۔ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو کر مَدَنی انعامات پر مضبوطی سے عمل کرتے ہوئے بہت سادہ اور با پردہ زندگی گزارنے لگیں ۔ ایک عرصہ بیمار رہیں جس میں شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ پیکر صبر تھيں۔کبھی حرفِ شکايت زبان پر نہیں آنے دیا۔ انتقال سے چند دن پہلي ایک بار سوئیں تو قسمت انگڑائی لے کر جاگ اُٹھی اور خواب میں سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئیں۔زبان پر کلمہ طیبہ کا ورد رہتا ۔ کبھی کبھی اپنے حسنِ ظن کا اظہار کرتے ہوئے بڑے اعتماد سے کہتیں کہ مجھے اپنے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم پر بہت بھروسہ ہے وہ میرے ایمان کی ضَرور حفاظت فرمائیں گے ،پھرمیں امیرِ اَہلسنّت