Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
99 - 273
کے کمرے تک پہنچے اس کی بیوی جاگ گئی ۔ ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے اور اس کو ہراساں کرنے کے لئے اس پر تلوار اٹھائی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی وصیت تھی کہ ابو رافع سلام کے علاوہ کسی کو یہ قتل نہ کریں۔وہ عورت خاموش ہوگئی اور تھر تھر اتے ہوئے اپنی جگہ دبک گئی۔ 

    دوسرے فدائی آگے بڑھے سخت تاریکی تھی ابورافع کی صحیح جگہ کا پتا نہ چلتا تھا۔فدائیوں کی تلواریں چلنے لگیں لیکن اسکو کوئی خاص گہر ا زخم نہ لگ سکا حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے ان کے سامنے ابورافع تھاجو کہ چیخ و پکار کررہا تھا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  اپنی تلوار سے اس بدترین دشمن کو کیفر کردار تک پہنچادیا۔ جب ابو رافع کی ہلاکت کا یقین ہوچکا تو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی یہ جماعت مسرت و شادمانی کے ساتھ مدینہ مقدسہ کے لئے روانہ ہوئی۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم مدینہ کی طرف تیزی سے بڑھ رہے تھے تاکہ اپنے سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کواس دشمن کی ہلاکت کی بشارت سنائیں۔ یہ قافلہ مسجد نبوی شریف علی صاحبہ الصلوۃ والسلام کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے گفتگو فرمارہے ہیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے ان کو اس عالم میں دیکھا کہ انکے چہرے آثار خوشی سے دمک رہے ہیں ۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے تبسم فرماتے ہوئے کہا :''اَفْلَحَتِ الْوُجُوْہ '' یہ چہرے کامیاب ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی زبان مبارک سے نکلنے والے یہ کلمات کتنے عظیم ہیں۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی اس جماعت نے بھی بلاکسی تاخیر کہا :
'' اَفْلَحَ وَجْھُکَ یَارَسُوْلَ اللہ''
آپ کا چہرہ مبارک کا میاب ہے ہاں ہاں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے ہی یہ کامرانی ہے ، اگرآپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی ہدایت و
Flag Counter