| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
رہنمائی نہ ہوتی تو ہم کامیاب نہ ہوتے۔
لوگ اس کامیابی سے پلٹنے والے قافلہ سے سلام بن ابو الحقیق کے قتل کی کیفیت دریافت کرنے کے لئے ان کے گرد جمع ہوگئے سارے ہی مجاہدین کہہ رہے تھے میری تلوار نے ابورافع کا کام تمام کیا ہے۔ حضور پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم تبسم فرمارہے ہیں کہ اس شرف عظیم کو ہر شخص اپنے ہی حصے میں لینا چاہتا ہے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ان کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا پھر فرما یا: ہر شخص اپنی تلوار میرے سامنے پیش کرے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے سب کی تلواروں کا جائز ہ لیا اور انکی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: عبداللہ بن انیس کی تلوار نے اس کاکام تمام کیا ہے، اس میں اس کا اثراَب بھی ہے۔(السیرۃ النبویۃلابن ہشام،مقتل سلام بن ابی الحقیق،ج۴،ص۲۳۵)
قبائل ہذیل خالدبن سفیان کی قیادت میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے جنگ کرنے کیلئے مقام نخلہ میں جمع ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نےرَأسُ الْفِتْنَۃخالد کو کیفرکردار تک پہنچانے کا عزم مصمم فرمایا۔ اس مہم کے لئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے عبداللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو منتخب کیا اور فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ ابن سفیان مجھ سے جنگ کر نے کیلئے لوگوں کو جمع کررہا ہے،اور وہ اس وقت نخلہ میں ہے تم وہاں جاکر اس کو قتل کرو۔
سپاہی نے اپنے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی آواز پرلبیک کہا لیکن اس مہم کا سر کرنا آسان نہ تھا۔ دشمن اپنے ہزاروں سپاہیوں کے بیچ میں ہے اور وہاں تک پہنچنا بہت مشکل ہے۔ اب یہاں سوائے حرب فریب کے اور کوئی چارہ نہیں اور اس کیلئے بھی باتیں بنانی ہوں گی۔ اور یہ چیز اسلام میں روا نہیں نا چار انھوں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ