کیا تھا اسے بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ جس لمحہ یہ بشارت ملی کہ اب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم مدینہ کے قریب آچکے ہیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے عشاق و محبین استقبال کے لئے''ثنیۃ الوداع'' تک پہنچ گئے کہ کب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی طلعت زیبا سے انکی معراج ہونی والی ہے اور جس وقت ان حضرات نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو دیکھا مرحبا کی صداؤں سے پوری فضاء گونج اٹھی ،ان استقبال کرنے والوں میں حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فدائی رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم بھی تھے یہ تو وفورِ مسرت سے بے قابو ہورہے تھے۔ یہی وہ صحابی رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ہیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے ایک اشار ے پر اسلام کے ایک بہت بڑے دشمن ابورافع سلام بن ابوالحقیق کو اس کے قلعے کے اندر گھس کر قتل کیا تھا۔
واقعہ کی تھوڑی تفصیل یوں ہے۔سلام بن ابوالحقیق اللہ اور اس کے رسول عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا سخت دشمن تھا ۔ اس نے بنونضیر کے یہودیوں کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے قتل پر برانگیختہ کیا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے سامنے جب یہ صورت حال لائی گئی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے اس دشمن دین کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت منتخب کی ان میں حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے اس دستہ کی قیادت حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سونپی گئی۔ یہ دستہ اس مہم کے لئے روانہ ہوا۔ رات میں چلتا اور دن میں کمین گاہوں میں چھپار ہتا ۔ تا آنکہ یہ دستہ سلام بن ابوالحقیق کے قلعہ کے اندر داخل ہوگیا ۔ رات کا وقت تھا ، قلعہ کے سب لوگ سوگئے ، سلام بن ابوالحقیق قلعہ کے ایک بالاخانہ پر سورہا تھا۔ نصف شب میں یہ لوگ آہستہ آہستہ اس تک پہنچنے کے ليے چل پڑے، جب اس