پسینہ موتی کے مانند ہوتا ہے، نہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم پست قدہیں نہ دراز قامت ، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت ہے ۔ جو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو یکایک دیکھتا ہے مرعوب ہو جاتا ہے اور جو آشنا ہو کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی صحبت میں رہتا ہے وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے محبت کر نے لگتا ہے ، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ جرأ ت مند ہيں ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا طرز تکلم سب سے سچا ، ایفاء عہد میں سب سے پکے ، سب سے نرم طبع ، اور رہن سہن میں سب سے اچھے ہیں۔ میں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم جیسا کسی کو نہ پہلے دیکھا اور نہ ہی بعد میں ۔
جس وقت حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ بیان کررہے تھے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی اس جماعت پر سکوت چھایا ہوا تھا، و ہ سبھی حضرات پوری توجہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے اس سراپائے ا قدس کو سماعت کررہے تھے ابھی حضرت مصعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا بیان مکمل بھی نہ کر سکے تھے کہ اہل محفل بیک زبان پکار ا ٹھے۔ صلی اللہ علیک یارسول اللہ
محبت و فدائیت : جب مدینہ طیبہ کے اندر اسلام سے وابستہ ہونے والوں کی تعداد خاصی بڑھ گئی قبیلہ اوس و خزرج کے لوگ جوق درجوق اسلام قبول کرنے لگے تواہل مدینہ نے اپنے ہادی و آقا، نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو اپنے وطن مدینہ مقدسہ تشریف لانے کی دعوت دی اسکے بعد انصار کے لوگ بڑی بے چینی سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے انتظار کی گھڑیاں گننے لگے۔ اس وقت انکے شوق دیدار کا عالم