ابن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی دید کے بغیر مجھے سکون میسر نہیں کب یہ دن گزریں گے ،پھر وہ کچھ دیر خاموش رہے اور فرمایا مجھے اندیشہ ہے کہ کسی وجہ سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے میری ملاقات نہ ہوسکے اس ليے کیا آپ ہمارے سامنے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا سراپاہی بیان کرسکتے ہیں، آپ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی صحبت میں رہے ہیں اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے چہرہ اقدس کی زیارت سے بہرہ ور ہوئے ہیں۔ سبھی حاضرین نے بیک زبان کہا ابن مسلمہ تم نے ہمارے دل کی بات کہدی ۔ ابن عمیر! رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا سراپا بیان کیجئے۔
حضرت مصعب بن عمیررضی اللہ تعالیٰ عنہ قعدہ سے(دوزانو ہوکر) بیٹھ گئے، اپنا سرجھکایا ،نظریں نیچی کیں جیسے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا سراپا اپنے ذہن میں لارہے ہوں۔ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے رنگ میں سفیدی و سرخی کا حسین امتزاج ہے،چشمان مبارک بڑی ہی خوبصورت ہیں، بھویں ملی ہوئی ہیں،بال سیدھے ہیں گھنگریالے نہیں ہیں، داڑھی گھنی ہے، دونوں مونڈھوں کے بیچ فاصلہ ہے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی گردن مبارک جیسے چاندی کی چھا گل، ہتھیلی اور قدم موٹے ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم جب چلتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم اونچائی سے نیچے آرہے ہوں اور جب کھڑے ہوتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتاہے جیسے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کسی چٹان سے نکل پڑے ہوں،جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کسی کی طرف رخ فرماتے تو مکمل طورپرمتوجہ ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے چہرہ مبارک پر