Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
93 - 273
    اشعۃ اللمعات میں اس حدیث کے تحت ہے:
''واز اطلاق سوال کہ فرمودہ سل بخواہ و تخصیص نہ کرد وبمطلوبی خاص معلوم می شودکہ کارہمہ بدست ہمت و کرامت اوست صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ہر چہ خواہدو ہرکرا خواہد باذن پروردگار خود بدہد''
        (اشعۃ اللمعات،کتاب الصلاۃ،باب السجود وفضلہ،ج۱،ص۴۲۵)
ترجمہ: سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا:کہ مانگو! اس میں کسی خاص مطلب کی تخصیص نہیں کی اس سے معلوم ہوتاہے کہ سارے کام حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے دست عزت وقوت میں ہیں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم جو چاہیں جسے چاہیں اپنے پروردگار عزوجل کے اذن سے عطا فرمائیں۔
اللہ عزوجل اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی محبتـ: حضرت ابوذررضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ایک روز میں دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے دولت خانہ پر حاضر ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم تشریف فرمانہ تھے۔ میں نے خادم سے دریافت کیااس نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں ہیں میں وہاں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت میں پہنچا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور کوئی آدمی آپ کے پاس نہ تھا۔ مجھے اس وقت یہ گمان ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم وحی کی حالت میں ہیں۔ میں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو سلام عرض کیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے میرے سلام کا جواب دیا پھر فرمایا تجھے کیا چیز یہاں لائی ہے۔ میں نے عرض کیا اللہ عزوجل اور رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی محبت۔
    آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ بیٹھ جا،میں آ پ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم
Flag Counter