جائے غور ہے کہ اگر ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو زندہ نہ جانتے تو ہر گز ایسی وصیت نہ فرماتے کہ روضۂ اقدس کے سامنے میر ا جنازہ رکھ کر اجازت طلب کی جائے۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وصیت کی اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اسے عملی جامہ پہنا یا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کاعقیدہ تھا کہ رسول اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم بعد وصال بھی قبر انور میں زندہ اور صاحب اختیار و تصرف ہیں۔الحمد للہ عزوجل
شوق رفاقت: حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں رات کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت اقدس میں رہا کرتا تھا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے وضو کیلئے پانی لایا کرتا تھا اور دیگر خدمت بھی بجا لایا کرتاتھا ایک روز آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے مجھ سے فرمایا :