Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
92 - 273
    جائے غور ہے کہ اگر ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو زندہ نہ جانتے تو ہر گز ایسی وصیت نہ فرماتے کہ روضۂ اقدس کے سامنے میر ا جنازہ رکھ کر اجازت طلب کی جائے۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وصیت کی اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اسے عملی جامہ پہنا یا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کاعقیدہ تھا کہ رسول اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم بعد وصال بھی قبر انور میں زندہ اور صاحب اختیار و تصرف ہیں۔الحمد للہ عزوجل

شوق رفاقت: حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں رات کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت اقدس میں رہا کرتا تھا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے وضو کیلئے پانی لایا کرتا تھا اور دیگر خدمت بھی بجا لایا کرتاتھا ایک روز آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے مجھ سے فرمایا :
سَل
(مانگو) میں نے عرض کیا:
اَسْئَلُکَ مُرَافَقَتَکَ فِی الْجَنَّۃِ
میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے بہشت میں آپ کا ساتھ مانگتا ہوں ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ اورکچھ؟ حضرت ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ میرا مقصود تو وہی ہے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا تو کثرت سجدہ سے میری مدد کر۔
    (صحیح مسلم،کتاب الصلوۃ،باب فضل السجود، الحدیث۴۸۹،ص۲۵۲)
مطلب یہ ہے کہ خود بھی اس مقام بلند کی شان پیدا کرو ،میری عطا کے ناز پر کثرت عبادت سے غافل نہ ہوجاؤ۔
Flag Counter