کے پہلو میں بیٹھ گیا ،نہ میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے کچھ پوچھتا اور نہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم مجھ سے کچھ فرماتے۔ میں تھوڑی دیر ٹھہرا کہ اتنے میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلدی جلدی چلتے ہوئے آئے۔انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو سلام کیا۔ آپ نے سلام کا جواب دیا پھر فرمایا: تجھے کیا چیز یہاں لائی۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا۔ اللہ عزوجل اور رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی محبت ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرمایاکہ بیٹھ جا۔ وہ ایک بلند جگہ پر نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے مقابل بیٹھ گئے۔ پھر حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے انھوں نے بھی ایسا ہی کیا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے ویسا ہی فرمایا۔ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے۔
پھر اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے سات یا نو کے قریب سنگریزے لئے۔ان سنگر یزوں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے مبارک ہاتھ میں تسبیح پڑھی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے ہاتھ میں شہد کی مکھی کے مانند آواز سنائی دی۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے ان سنگریزوں کو زمین پر رکھ دیا اور و ہ چپ ہوگئے۔
پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے وہ سنگریزے مجھے چھوڑ کر ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دئیے ان سنگریزوں نے حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں تسبیح پڑھی۔ یہاں تک کہ میں نے شہد کی مکھیوں کی طرح ان سے آواز سُنی،پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے وہ کنکر حضرت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لے کر زمین پر رکھ دئیے وہ