Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
91 - 273
و اقارب کو غلامی پر قربان کر دیناجس عظیم و جلیل محبت کا پتا دیتا ہے وہ ظاہر ہے۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بارگاہ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاکا بیان ہے کہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کے بعد بعض لوگوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو شہدا ء کے درمیان دفن کردیں اور بعض کہتے تھے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو جنت البقیع میں دفن کیا جائے۔ میں نے کہامیں تو انھیں اپنے حجرے میں اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے پاس دفن کروں گی۔ ابھی ہم اس اختلاف میں تھے کہ مجھ پر نیند غالب آگئی میں نے کسی کو یہ کہتے سنا کہ محبوب کو محبوب کی طرف لے آؤ۔ جب میں بیدار ہوئی تو پتا چلا کہ تما م حاضرین نے اس آواز کو سن لیا تھایہاں تک کہ مسجد میں موجودلوگوں نے بھی اس آواز کو گوش ہوش سے سُنا۔
    وفات سے پہلے سید نا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے تابوت (جنازہ)کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے روضہ انور کے پاس لاکر رکھ دینا اور
السلام علیک یارسول اللہ
کہہ کر عرض کرنا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم !ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے آستانہ عالیہ پر حاضر ہواہے۔ اگر اجازت ہوئی تو دروازہ کھل جائے گااور مجھے اندرلے جاناورنہ جنت البقیع میں دفن کردینا ۔راوی کا بیان ہے کہ جب حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی وصیت پر عمل کیا گیا تو ابھی وہ کلمات پایہ اختتام کو نہ پہنچے تھے کہ پردہ اٹھ گیا۔ اور آواز آئی کہ:''حبیب کو حبیب کی طرف لے آؤ''۔
 (شواہد النبوۃ،رکن سادس،ص۲۰۰)
Flag Counter