Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
88 - 273
وسلم نے فرمایا:'' تو خدا کے نزدیک گراں قدر ہے۔''
(جامع الترمذی،شمائل محمدیۃ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ،باب ماجاء فی صفۃ مزاح...الخ،الحدیث۲۳۸،ج۵،ص۵۴۵)
حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عشق رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم : حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ زمانہ جاہلیت میں اپنی والدہ کے ساتھ ننھیال جارہے تھے بنو قیس نے وہ قافلہ لوٹا جس میں زیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ان کو  مکہ میں لاکر بیچا۔ حکیم بن حزام نے اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے لئے ان کو خریدلیا۔ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا نکاح حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ہوا تو انھوں نے زید رضی اللہ تعالی عنہ کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کیا۔ زید رضی اللہ تعالی عنہ کے والد کو ان کے فراق کا بہت صدمہ تھا اور ہونابھی چاہيے تھا کہ اولاد کی محبت فطری چیز ہے وہ زیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فراق میں روتے اور اشعار پڑھتے پِھر ا کرتے تھے ،اکثر جو اشعار پڑھتے تھے ان کا مختصر ترجمہ یہ ہے کہ'' میں زید کی جدائی میں رورہا ہوں اور یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ زندہ ہے کہ اس کی امید رکھوں یا موت نے اسکا کام تمام کر دیاکہ اس سے مایوس ہو جاؤں، خداعزوجل کی قسم مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ تجھے اے زید نرم زمین نے ہلاک کیا یا کسی پہاڑ نے ہلاک کیا۔ کاش مجھے یہ معلوم ہوجاتاکہ توعمر بھرمیں کبھی بھی واپس آئے گا یا نہیں ساری دنیا میں میری انتہائی غرض تیری واپسی ہے۔جب آفتاب طلوع ہوتاہے تو مجھے زید ہی یا دآتا ہے اور جب بارش ہونے کو آتی ہے تو بھی اسی کی یاد مجھے ستاتی ہے اور جب ہوائیں چلتی ہیں تو وہ بھی اس کی یاد کو بھڑکاتی ہیں۔ ہائے میرا غم اور میری فکر کس قدر طویل ہوگئی میں اس کی
Flag Counter