تلاش اور کوشش میں ساری دنیا میں اونٹ کی تیز رفتاری کو کام میں لاؤں گا اور دنیاکا چکر لگانے سے نہ اکتاؤں گا اونٹ چلنے سے اکتاجائیں تو اکتا جائیں لیکن میں کبھی بھی نہ اکتاؤں گا۔ اپنی ساری زندگی اسی میں گزار دوں گا۔ ہاں میری موت ہی آگئی تو خیر کہ موت ہر چیز کو فنا کردینے والی ہے آدمی خواہ کتنی ہی امید یں لگائے مگر میں اپنے بعد فلاں فلاں رشتہ داروں اور آل و اولاد کو وصیت کرجاؤں گا کہ وہ بھی اسی طرح زید کو ڈھونڈ تے رہیں''۔
غرض وہ یہ اشعار پڑھتے اور روتے ہوئے ڈھونڈتے پھر اکرتے تھے۔ اتفاق سے ان کی قوم کے چند لوگوں کا حج کو جانا ہوا اور انھوں نے زید کو پہچانا۔ باپ کا حال سنایا،شعر سنائے انکی یا دو فراق کی داستان سنائی ۔ حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کے ہاتھ تین شعر کہہ بھیجے جن کا مطلب یہ تھا کہ'' میں یہاں مکہ میں ہوں''۔ ان لوگوں نے جا کر زید کی خیر و خبران کے باپ کو سنائی اور وہ اشعار سنائے جو زید نے کہے تھے اور پتا بتایا۔ زید کے باپ اور چچا فدیہ کی رقم لے کر ان کو غلامی سے چھڑانے کی خاطر مکہ مکرمہ پہنچے، تحقیق کی ،پتا چلایا،حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور عرض کیا: اے ہاشم کی اولاد! اپنی قوم کے سردار! تم لوگ حرم کے رہنے والے ہو اور اللہ عزوجل کے گھر کے پڑوسی ،تم خود قیدیوں کو رہا کراتے ہو، بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہو۔ ہم اپنے بیٹے کی طلب میں تمھارے پا س پہنچے ہیں ہم پر احسان فرماؤ اور کرم کرو۔ فدیہ قبول کرو اور اس کو رہا کردو بلکہ جو فدیہ ہو اس سے زیادہ لے لو۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا: بس اتنی سی بات ہے!عرض کیا حضور! بس یہی عرض ہے۔
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسکو بلا ؤاور اس سے پوچھ لو اگر وہ