| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
صحیح بخاری میں خود ان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا کہ تین باتیں ایسی ہیں جو کسی شخص میں پائی جائیں تو گویا اس نے ایمان کی حلاوت پالی۔ ایک یہ کہ اللہ اوراللہ کا رسول عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم اس کو ساری دنیا سے عزیز تر ہوں، دوسرے یہ کہ جس سے محبت کرے اللہ عزوجل کی خاطر کر ے، تیسرے یہ کہ اسلام لانے کے بعد کفر کی طرف لوٹ جانے کو ایسا نا پسند کرے جیسا کہ آگ میں پڑجانے کو کرتا ہے۔
(صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب حلاوۃالایمان،الحدیث۱۶،ج۱،ص۱۷)
حضرت زاہررضی اللہ تعالیٰ عنہ : ایک بدوی صحابی زاہر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جوبظاہرحسین نہ تھے، جنگل کے پھل سبزی وغیرہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ لایا کرتے تھے۔ جب وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے رخصت ہوتے تو آپ شہر کی چیزیں کپڑا وغیرہ ان کو دے دیا کرتے تھے۔ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو ان سے محبت تھی اور فرمایا کرتے تھے کہ زاہر ہماراروستائی ہے اور ہم اس کے شہری ہیں۔
ایک روز آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم بازار کی طرف نکلے تو دیکھا کہ زاہر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی متاع بیچ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے پیٹھ کی طرف جاکر ان کی آنکھوں پر اپنا دست مبارک رکھا اور ان کو گود میں لے لیا و ہ بولے کون ہے ؟ مجھے چھوڑ دو۔ انہوں نے مڑ کر دیکھا تو آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم تھے۔ اپنی پیٹھ (بقصدبرکت)اور بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے سینے سے لپٹا نے لگے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا کوئی ہے جو ایسے غلام کو خریدے وہ بولے یارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم اگر آپ بیچتے ہیں تو مجھے کم قیمت پائیں گے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ