Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
86 - 273
     حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے جب وصال فرمایا، تو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دنیا اندھیر ہوگئی۔ رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی یاد ان کو ہروقت تڑپاتی رہتی تھی۔ ان کی کوئی محفل ایسی نہ ہوتی تھی جس میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا ذکر خیر نہ ہو۔ عہد رسالت کا کوئی واقعہ کسی سے سنتے یا خود بیان کرتے تو آنکھیں نم ہوجاتیں اور شدت تاثر سے آواز بھر اجاتی۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا کہ اپنے آپ پر قابو نہ رہتااور سخت بے چینی کے عالم میں محفل سے اٹھ کھڑے ہوتے اور جب تک گھر پہنچ کر تبرکات نبوی کی زیارت نہ کر لیتے کل نہ پڑتی تھی۔ 

    ایک دن سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا حلیہ بیان کر رہے تھے کہ: '' میں نے کبھی کوئی ریشم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم نہیں چھوا،اور نہ کبھی کوئی خوشبوحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے بدن مبارک سے زیادہ خوشبودار سونگھی''
(صحیح البخاری،کتاب المناقب، باب صفۃ النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ، الحدیث۳۵۶۱، ج۲، ص۴۸۹)
اسی طرح بیان کرتے کرتے فرط محبت سے اتنے بے قرار ہوگئے کہ گریہ طاری ہوگیااور زبان پر بے اختیاریہ الفاظ آگئے۔

    '' قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی زیارت نصیب ہوگی تو عرض کروں گا یارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم آپ کا ادنیٰ غلام انس حاضر ہے''۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے بے پناہ محبت اور عقیدت کایہ اثر تھا کہ انھیں اکثر خواب میں سید الانام صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی زیارت نصیب ہوجاتی تھی۔ اللہ اور اس کا رسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ان کو دنیا کی ہر شے سے محبوب تر تھے۔
(المسند لامام احمد بن حنبل،مسندانس بن مالک بن النضر،الحدیث۱۳۳۱۵،ج۴،ص۴۴۲)
Flag Counter