Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
85 - 273
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا:ابو بکر! گھر والوں کے لئے کیا چھوڑا۔ انہوں نے عرض کیا: ان کے لئے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو چھوڑآیا ہوں۔
پروانے کو چراغ ہے تو بلبل کو پھول بس 

صدیق کے لئے ہے خدا کا رسول بس
یعنی اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے نام کی برکت ،ان کی رضا اور خوشنودی کو چھوڑآیا ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کبھی نہیں بڑھ سکتا۔ یہ قصہ غزوہ تبوک کے لئے فراہمی مال و اسباب کا ہے۔
 (شرح العلامۃ الزرقانی،باب غزوۃ تبوک،ج۴،ص۶۹)
    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صحیفہ اخلاق میں حب رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم اور اتباع سنت کے نہایت نمایاں ابواب ہیں انھوں نے ہوش کی آنکھیں کھولیں تو اسلام کو اپنے گھرانے پر شروع دن ہی سے پر تو فگن دیکھا۔ ان کی والدہ حضرت ام سلیم ، سوتیلے والد حضرت ابو طلحہ، چچا حضرت انس بن نضر ، بھائی حضرت براء بن الملک، خالہ ام حرام اور سبھی سروردو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے مخلص شیدائی تھے۔(رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) 

    خاندان میں ہر وقت ذات رسالتمآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم اور آپ کی دعوت حق کا چرچا ہوتا رہتا تھا۔اس پاکیزہ ماحول نے کمسن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں حضور پر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی محبت کا بیج بودیا ۔ اس کے بعد ان کو مسلسل دس برس تک رحمت دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت کر نے کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس دوران، ان کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے بے مثل اخلاق عالی نے اتنا متاثر کیا کہ وہ اپنے شفیق آقاو مولا صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے عاشق صادق بن گئے۔
Flag Counter