Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
84 - 273
یہاں تک کہ جبرئیل امین علیہ السلام یہ مژدہ لے کر تشریف لائے۔
وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیۡقِیۡنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا ﴿ؕ۶۹﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہیداور نیک لوگ۔(پ4،النساء:69)
     (الجامع لاحکام القرآن،الحدیث۲۳۰۹،ج۵،ص۲۶۱)
    اطاعت گزار عشاق کو جنت میں جدائی کا صدمہ نہیں پہنچے گا بلکہ ان کواپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی معیت ورویت میسر ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ عشق مصطفوی میں صرف حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کی یہ کیفیت نہ تھی بلکہ سب صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا یہی حال تھا۔

اللہ عزوجل او ر اس کا رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم بس: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے صدقہ کرنے کا حکم فرمایا۔ اتفاقاََ اس زمانے میں میرے پاس کچھ مال موجود تھا۔میں نے کہا آج اتفاق سے میرے پاس مال موجود ہے ،اگر میں ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کبھی بڑھ سکتا ہوں تو  آج بڑھ جاؤں گا۔ یہ سوچ کر میں خوشی خوشی گھر گیا اور جو کچھ گھر میں تھا اس میں سے آدھا لے آیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا کہ گھر والوں کے لئے کیا چھوڑا ،میں نے عرض کیا:کہ چھوڑ آیا، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا: آخر کیا چھوڑا؟ میں نے عرض کیا کہ آدھا چھوڑ آیا۔ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو رکھا تھا سب لے آئے۔
Flag Counter