Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
83 - 273
شدیم خاک و لیکن ز تربت ما 

                             تواں شناخت کزیں خاک مردے خیزد
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے بعد دنیا قابل دید نہ رہی: جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے وصال ظاہری کی خبر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے مؤذن عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سنی تو وہ اس قدرغمزدہ ہوئے کہ نابینا ہونے کی دعا مانگنے لگے کہ میرے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے بغیر یہ دنیا میرے لئے قابل دید نہ رہی۔ آپ اسی وقت نابینا ہوگئے۔ لوگوں نے کہا:تم نے یہ دعا کیوں مانگی؟ فرمایا: لذت نگاہ تو دیکھنے میں ہے مگر سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے بعد اب میری آنکھیں کسی کے دیدار کا ذوق ہی نہیں رکھتیں۔
    (المرجع السابق،ص۱۳۹)
ا ضطرابِ عشق : ایک دن حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے عاشق زار حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضر ہوئے تو ان کا چہرہ اترا ہوا اور رنگ اڑا ہوا دیکھ کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے وجہ پوچھی۔ تو درد مند عاشق نے عرض کیا: یارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نہ کوئی جسمانی تکلیف ہے اور نہ کہیں درد ۔بات یہ ہے کہ رخ انور جب آنکھوں سے اوجھل ہوتا ہے تو دل بےتاب ہوجاتا ہے فوراً  زیارت سے اسکو تسلی دیتا ہوں۔ اب رہ رہ کر مجھے یہ خیال ستا رہا ہے کہ جنت میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا مقام بلند کہاں ہوگا اور یہ مسکین کس گوشہ میں پڑا ہوگا۔ اگر روئے تاباں کی زیارت نہ ہوئی تو میرے لئے جنت کی ساری لذتیں ختم ہوجائیں گی،  فراق و ہجر کا یہ جانکاہ صدمہ تو اس دل ناتواں سے برادشت نہ ہوسکے گا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم یہ ماجرا سنکر خاموش ہوگئے۔
Flag Counter