Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
82 - 273
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جذبہ جاں نثاری: حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم جب غزوہ تبوک کے لئے روانہ ہوئے تو میرا اونٹ بہت لاغر اور ضعیف تھا۔ میرا خیال تھا کہ چند روز مزید ٹھہرکر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے جا ملوں گا۔ میں نے کئی روز تک اپنے اونٹ کو چارا کھلایا بعدازاں میں عازم سفر ہوا۔ جب ایک جگہ پہنچا تو میرے اونٹ کی ٹانگ ٹوٹ گئی جس کے باعث وہ آگے نہ چل سکا میں نے اپنا مال و متاع اپنی پشت پر رکھا اور چل دیا۔ راستے میں سخت گرمی سے دوچار ہونا پڑا۔ لشکر اسلام کے پاس پہنچا تو لوگوں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے عرض کیا کوئی شخص پیدل چلا آرہا ہے۔ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا: ابو ذر غفاری ہوں گے۔ جب میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے قیام کی حالت میں فرمایا: خوش رہو ابو ذر! رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم تنہا سفر کرتے ہو تنہاہی اس دنیا سے جاؤ گے اور تنہاہی بروز حشر اٹھوگے۔ 

    کہتے ہیں جب ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہوا تو  آپ تنہاہی تھے۔ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بحالت وفات پایا تو کہا۔ سچ فرمایا تھا خدا کے صادق و مصدوق رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے ۔صاحب مستقصی نے لکھا ہے کہ میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار کی زیارت کی ہے۔ مجھے وہاں وہ کیف و جذب حاصل ہوا جو دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مزار پر نہ پاسکا۔ میں نے ان کی قبر کے پاس نماز ادا کی جونہی میں سربسجود ہوا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تربت انور سے مشک و عنبر کی خوشبو نکلی جس نے میرے مشام جاں تک کو معطر و معنبر کردیا۔
                     ( شواہد النبوۃ،رکن رابع،ص۱۲۵)
Flag Counter