Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
81 - 273
رضائے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے لئے جذبہ ایثار
جس روز حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم عازم موضع تبوک ہوئے، حضرت عبداللہ بن خیثمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر آئے۔ ان کی دو حسین و جمیل بیویاں تھیں جنہوں نے اس رو زخس کے پردوں کو پانی میں بساکر ان سے نہایت عمدہ فرش تیار کئے اور پھر ان پر عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے نہایت عمدہ اور لذیذ کھانے چنے۔ جونہی عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنه نے ان کھانوں کو دیکھا تو کہا سبحان اللہ ! وہ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم جسے پروردگار عالم عزوجل نے آئندہ و گزشتہ تمام گناہوں سے منزہ پیدا فرمایا، اس شدید گرمی کے موسم میں کفار سے قتال کے لئے تشریف لے جائیں اور عبداللہ رنگا رنگ کھانوں سے سیر ہوکر ان بیویوں سے مباشرت کرے،ایسا نہیں ہوسکتا۔ خداعزوجل کی قسم میں جب تک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت میں نہ پہنچوں ان بیویوں سے کلام نہیں کروں گا۔

     گھر سے نکلے اور اپنے اونٹ پر سوار ہوکر ایک طرف چل دیئے۔ بیویوں نے ہر چند کلام کی کوشش کی لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملتفت نہ ہوئے ۔جوں ہی عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقام تبوک کے نزدیک پہنچے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو بتایاگیا کہ ایک اونٹ سوار دور سے اس طرف آتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا وہ ابن خیثمہ ہوگا۔ نزدیک پہنچے تو دیکھا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے فرمان کے مطابق وہ ابن خیثمہ ہی تھے۔ انہوں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت میں پہنچ کر سلام عرض کیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے جواباً فرمایا:اے ابن خیثمہ !رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا ہی اچھی بات ہے تم فانی ناز و نعمت کو چھوڑ کر رضائے حق میں کھوگئے جو تمہارے لئے بہتر ہے۔
(شرح العلامۃ الزرقانی،باب غزوۃ تبوک،ج۴،ص۸۲)
Flag Counter