(۹) حضرت عبدالرحمن بن سعدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا پاؤں سن ہوگیا۔ ان سے یہ سن کر ایک شخص نے کہا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک جو سب سے زیادہ محبوب ہے اسے یاد کیجئے یہ سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: یا محمداہ! (اور آپ کا پاؤں اچھا ہوگیا) ۔
(۱۰)حضرت بلال بن رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کا وقت آیاتو ان کی زوجہ نے کہا: واحزناہ (ہائے غم) یہ سنکر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:
واطرباہ القی غداً الاحبۃ محمداً وحزبہ۔
واہ خوشی! میں کل دوستوں یعنی محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ملوں گا۔
(۱۱) جب ۷ ھ میں قبیلہ اشعریّین میں سے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ مدینہ شریف کو آئے تو زیارت سے مشرف ہونے سے پہلے پکار پکار کر یوں کہنے لگے:
غداً نلقی الاحبۃ محمداً وصحبہ
ہم کل دوستوں یعنی محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ملیں گے۔