Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
79 - 273
صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے مجھے مال عطا فرمایا، حالانکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم میری نظر میں مبغوض ترین خلق تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم مجھے عطا فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم میری نظر میں محبوب ترین خلق ہوگئے۔
(جامع الترمذی، کتاب الزکاۃ،باب ماجاء فی اعطاء المؤلفۃ قلوبہم،الحدیث۶۶۶،ج۲،ص۱۴۷)
(۷)فتح مکہ میں حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابوسفیان بن حرب کو جواب تک ایمان نہ لائے تھے، اپنے پیچھے خچر پر سوار کرکے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت میں لائے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنه نے عرض کیا: اگر اجازت ہوتو اس دشمن خدا کی گردن اڑادوں؟ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ! میں نے ابوسفیان کو پناہ دی ہے۔ حضرت فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اصرار کیا تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:اے ابن خطاب !اگر ابوسفیان قبیلہ بنو عدی میں سے ہوتے تو  آپ ایسا نہ کہتے۔ اس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنه نے کہا: اے عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ! جس دن آپ اسلام لائے،  آپ کا اسلام میرے نزدیک خطاب کے اسلام سے (اگر وہ اسلام لاتا) زیادہ محبوب تھا،  کیونکہ آپ کا اسلام رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے نزدیک زیادہ محبوب تھا۔
(الشفاء بتعریف حقوق المصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم،الباب الثانی،ج۲،ص۴۱)
(۸) جنگ احد میں ایک عفیفہ کے باپ بھائی اور شوہر شہید ہوگئے۔ اسے یہ خبر ملی تو کچھ پرواہ نہ کی اور پوچھا یہ بتاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کیسے ہیں ؟ جب اسے بتا دیا گیا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم بحمداللہ بخیر ہیں تو بولی کہ مجھے دکھادو۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو دیکھ کر کہنے لگی:
Flag Counter