(۷)فتح مکہ میں حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابوسفیان بن حرب کو جواب تک ایمان نہ لائے تھے، اپنے پیچھے خچر پر سوار کرکے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت میں لائے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنه نے عرض کیا: اگر اجازت ہوتو اس دشمن خدا کی گردن اڑادوں؟ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ! میں نے ابوسفیان کو پناہ دی ہے۔ حضرت فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اصرار کیا تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:اے ابن خطاب !اگر ابوسفیان قبیلہ بنو عدی میں سے ہوتے تو آپ ایسا نہ کہتے۔ اس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنه نے کہا: اے عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ! جس دن آپ اسلام لائے، آپ کا اسلام میرے نزدیک خطاب کے اسلام سے (اگر وہ اسلام لاتا) زیادہ محبوب تھا، کیونکہ آپ کا اسلام رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے نزدیک زیادہ محبوب تھا۔